بعدِ وصال سفید عمامہ اور سفید لباس
حضرت سیِّدُناا بو علی حسن بن احمد بن حسین بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کہتے ہیں کہ میں نے شیخ ابوبکر خطیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ کو خواب میں دیکھا کہ خوبصورت سفید رنگ کا عمامہ شریف اور سفید لباس پہنے ہشاش بشاش مسکرا رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ’’ مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا ؟‘‘ سوال کرنے پر یا پھر انھوں نے خود ہی مجھے بتایا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفرت فرما دی ۔‘‘ یا فرمایا:’’مجھ پر رحم فرمایا اور ہر اس شخص کی مغفرت یا ہر اس شخص پر رحم فرمایا جس نے توحید و رسالت کی گواہی دی۔ پس تم سب خوش ہو جاؤ۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر، احمد بن علی خطیب بغدادی، ۵/۴۰)
اولیاء و علمائے کرام کے سفید عمامے
{1}سیّدنا علی بن شھاب اور محمد منیر کا عمامہ
عَارِف بِاللہ، ولیٔ کامل حضرت علامہ عبدالوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں سیّدی محمد مُنیر اور سیّدنا علی بن شہاب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِما کے عمامے سفید اُون کے تھے جبکہ سیّدی محمد منیر سرخ دھاری دار چادر بھی پہنتے تھے۔ (الطبقات الکبری ، الجزء الثانی ، ص۱۵۴،۱۷۹)