کرتے ہیں : رَاَیْتُ عَلَی الشَّعْبِیِّ عِمَامَۃً بَیْضَائَ قَدْ اَرْخٰی طَرَفَہَا وَلَمْ یُرْسِلْہُ یعنی میں نے حضرت سیّدناامام شعبی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کو سفید عمامہ شریف باندھے دیکھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کا شملہ تو چھوڑرکھا تھا مگر اس میں اِرسال نہیں کیا ہوا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب اللباس ، باب فی لبس العمائم البیض، ۱۲/۵۴۱، حدیث:۲۵۴۷۲)
{10}سیّدنا خارجہ بن زید کا سفید عمامہ
حضرت سیّدنا زید بن سائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :رَاَیْتُ خَارِجَۃَ یَعْتَمُّ بِعِمَامِۃٍ بَیْضَاء یعنی میں نے حضرت سیّدنا خَارِجہ (بن زید) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سفید عمامہ باندھتے دیکھا۔ (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من اھل المدینۃ من التابعین ،خارجۃ بن زید ،۵/۲۰۲)
{11}سیّدنا مَکحُول کا سفید عمامہ
حضرت سیّدنا ابو فَروَہ حاتِم بن شقی بن مَرثَد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : رَاَیْتُ مَکْحُولًا یَعْتَمُّ عَلٰی قَلَنْسُوَۃٍ وَیَرْخٰی مِنْ خَلْفِہ شِبْرًا اَوْ اَقَلَّ مِنَ الشِّبْرِ بِعِمَامَۃٍ بَیْضَائَ یعنی میں نے حضرت سیّدنا مَکحُول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ٹوپی پر سفید عمامہ باندھتے دیکھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پیچھے بالشت بھر یا بالشت سے کم شملہ لٹکایا کرتے تھے ۔(تاریخ ابن عساکر ، حرف الحاء المہملۃ ،حاتم بن شقی بن یزید ویقال مرثد، ۱۱/۳۵۶)