سنّتیں زندہ کرنے والا جنّتی ہے
سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :مَن اَحیَا سُنَّتِی فَقَد اَحَبَّنِی وَ مَن اَحَبَّنِی کَانَ مَعِیَ فِی الجَنَّۃ یعنی جس نے میری سنّت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔(ترمذی ،کتاب العلم،باب ماجاء فی الاخذبالسنۃو اجتناب البدع، ۴/۳۰۹، حدیث:۲۶۸۷)
سنّت زندہ کرنے کا ثواب
نبیٔ کریم ، رء وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا :جان لو! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :یا رسول اللہ کیاجان لوں ؟ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے دوبارہ اسی طرح فرمایا:اے بلال جان لو ! عرض کی :یا رسول اللہ کیاجان لوں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا: مَنْ اَحْیَا سُنَّۃً مِنْ سُنَّتِی قَدْ اُمِیتَتْ بَعْدِی فَاِنَّ لَہُ مِنَ الاَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُورِہِمْ شَیْئًا یعنی جس نے میری ایسی سنّت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ چکی تھی (یعنی اس پرعمل ترک کیا جا چکا تھا) تو اسے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گاجو اس سنّت پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی