سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مثل جننے سے بانجھ ہو گئی ہیں ، خدا کی قسم میں نے ایسا سردار دیکھا نہ سنا جسے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہَمسَر کہا جا سکے، میں نے صِفِّین کے دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا: عَلٰی رَاسِہٖ عِمَامَۃٌ بَیْضَائُ قَدْاَرْخٰی طَرَفَیْھَا یعنی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سر پر سفید عمامہ شریف باندھا ہوا تھااور اس کے دو شملے چھوڑ رکھے تھے۔ (تاریخ ابن عساکر ، حرف الطاء ، فی آباء من اسمہ علی ، ۴۲/۴۶۰ملتقطًا)
حضرت سیّدنا عبداللہ ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جنگِ صِفِّین کے دن دیکھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سفید عمامہ شریف اس طرح باندھا ہوا تھا کہ اس کا ایک سرا لٹک رہا تھا۔ (کنزالعمال، کتاب الفتن والاھواء والاختلاف ، وقعۃ صفین ، الجز۱۱، ۶/۱۵۶، حدیث:۳۱۷۰۲)
{2}سیّدنااَبو عَطیۃ کا سفید عمامہ
حضرت سیّدنا مِسکِین بن عبداللہ الاَزدی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا اَبوعَطِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہو چکے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سر پر سفید عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔ (اسد الغابہ ، کتاب الکنی، حرف الہمزۃ، ابو عطیۃ البکری، ۶/۲۲۹ ملتقطاً)