گئی، جہاں سے جنّت کی معطر و معنبر ہوائیں اوربھینی بھینی خوشبوئیں آنے لگیں ، پھرحضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اس قبر میں لیٹ گئے، پھر (اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں )عرض کی : اے اللہ ! مجھے ایسا بندہ بنا دے جس سے تو محبت فرماتا ہے اور وہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ پھر ملک الموت عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام نے آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کی روح مبارک قبض فرما لی، حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام آگے بڑھے اور آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور قبر کھودتے وقت نکلنے والی مٹی آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کی قبرِ مبارک پر ڈال دی۔
(تاریخ ابن عساکر ، موسی بن عمران بن یصہر، ۶۱/۱۷۵)
صحابۂ کرام کے سفید عمامے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں کے عمامے سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سفید عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے چند کے مبارک عماموں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ
{1}سیّدنا علی المرتضٰی کا سفید عمامہ
حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیّدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ عورتیں امیر المومنین حضرت