نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضرت سیّدنا یُوشَع عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کو پیغام بھیج کر انہیں خلیفہ مقرر فرمایا اور ملک الموتعَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کی جانب تشریف لائے ۔ ملک الموت عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام نے عرض کی : اے موسیٰ (کَلِیمُ اللہ) عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام! موت کا آنا ایک ضروری امر ہے ، حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ان سے فرمایا : میرے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا جو بھی حکم ہے اسے پورا کیجئے ، حضرت سیّدنا حسن بصری عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے فرمایا :پھر آپ دونوں بستی سے باہر تشریف لے گئے جہاں حضرت سیّدنا جبریلِ امین ، حضرت سیّدنا میکائیل و حضرت سیّدنا اسرافیل عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُوالسَّلام آپ دونوں کا انتظار کر رہے تھے ۔پھر سب آگے کی جانب تشریف لے گئے یہاں تک کہ ایک قبر کے قریب پہنچے جس کے پاس کچھ ایسے لوگ تھے، جنہوں نے سفید عمامے شریف باندھ رکھے تھے، جب اس قبر کے اور قریب پہنچے تو وہاں سے مشک کے حلّے اُٹھ رہے تھے ۔ حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا :یہ قبر کس کے لیے کھود رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی :ایک ایسے بندے کے لیے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہے۔ حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: میں اس قبر میں اُتر کر دیکھوں ؟ انہوں نے عرض کی :جی ہاں ، جب آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام قبر میں اترے تو آپ کے لیے جنّت کی کھڑکی کھول دی