Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
222 - 479
پاس ایک شخص تُرکی گھوڑے پر سوار کھڑا تھا ، اس نے سر پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا جس کا شملہ اس نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔جبکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اپنا دستِ اقدس اس کے گھوڑے کی گردن پر رکھے ہوئے تھے، (سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ) میں نے عرض کی ، یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم  میں تو آپ کے اس طرح اچانک کھڑے ہونے سے ڈر ہی گئی تھی ، یہ (گُھڑ سوار) کون تھا؟ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: کیاتم نے اسے دیکھاہے ؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی : جی ہاں ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا : وَمَنْ رَاَیْتِ؟ یعنی تم نے کس کو دیکھا ؟ میں نے عرض کی : دحیہ کلبیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ذَاکَ جِبْرَائِیْلُ یعنی وہ تو جبرائیل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام )تھے۔ (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من المہاجرین والانصار ممن لم یشہد بدرا الخ ، دحیۃ بن خلیفۃ،۴/۱۸۹) 
سفید عماموں والے 
َ	حضرت سیّدنا حسن بَصری عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے جب اپنے گھر والوں ، اپنی اولاد اور اپنی والدہ کو چھوڑا (یعنی جب آپ کے وصالِ مبارک کا وقت قریب آیا) تو آپ عَلٰی