Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
221 - 479
 مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔ پس آپ منبر پر کھڑے ہو گئے اور لوگ آپ کے قریب جمع ہونے لگے یہاں تک کہ مسجد بھر گئی۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے کلمۂ شہادت پڑھا اور ارشاد فرمایا اے لوگو: بے شک انصار میرا خیال رکھنے والے اور میرے اپنے ہیں ، پس ان کے معاملے میں میرا لحاظ کرنا، ان کے اچھوں کو قبول کرنا اور ان کے بروں سے درگزر کرنا۔ (طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/۱۹۳) 
شان کیا پیارے عمامے کی بیاں ہو یانبی		تیری نعلِ پاک کا ہر ذرَّہ رشکِ طور ہے
’’ہوں غلامِ مصطَفٰے‘‘ عطارؔ کا دعویٰ ہے یہ		کاش! آقا بھی یہ فرما دیں ہمیں منظور ہے
سیّدنا جبریل امین کا سفید عمامہ 
	حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں : (ایک مرتبہ ) رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اچانک تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے میں نے جونہی نظر اٹھائی تو دیکھا کہ مَعَہُ رَجُلٌ وَاقِفٌ عَلَی بِرْذَوْنٍ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ بَیْضَائُ قَدْ سَدَلَ طَرَفَہَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے