Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
21 - 479
 بیشک اس دین کی اِبتداء غریبوں سے ہوئی اور عنقریب یہ اسی طرف لوٹ آئے گا جس طرح اس کا آغاز ہوا تھا۔ پس غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہ! غریب کون ہیں ؟ فرمایا : وہ لوگ جو میری سنّتیں زندہ کرتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کو  سکھاتے ہیں۔ (الزھد الکبیر، ص۱۱۷، رقم:۲۰۵) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
	
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی مبارک سنّتوں پر عمل پیرا ہونے کے کتنے فائدے اور کیسے کیسے انعامات ہیں ، اس بارے میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ 
جھولی بھر دی جاتی ہے
	اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیا ر ے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ کے گلشن کے مَہکتے پھول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: اللہ عَزَّوَجَلَّ سیدھے راستے پر چلنے والے، سنّتوں کے عامِل سفید بالوں والے شخص سے حیا فرماتا ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کرے اور وہ اسے عطا نہ فرمائے۔ 
(معجم الاوسط ، من اسمہ محمد، ۴/۸۲ ، حدیث :۵۲۸۶) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد