ترغیب دلائی گئی ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ سنّت کے مطابق سفید لباس پہننے کو اپنی عادت بنا لیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ دین و دنیا کی ڈھیروں بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ بھی سفید لباس کی ترغیب دلاتے ہوئے اسلامی بھائیوں کے لئے عطا کردہ 72 مدنی انعامات کے رسالے میں فرماتے ہیں ’’کیا آج آپ کا سارا دن (نوکری یا دکان وغیرہ پر نیز گھر کے اندر بھی ) عمامہ شریف (اور تیل لگانے کی صورت میں سر بند بھی ) زلفیں (اگر بڑھتی ہوں تو) ایک مُشت داڑھی ، سنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک (سَفید) کُرتا ، سامنے جیب میں نمایاں مسواک اور ٹخنوں سے اونچے پائنچے رکھنے کا معمول رہا؟ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مندرجہ بالا روایات سے جہاں سفید لباس پہننے کا پتہ چلتا ہے وہیں ضمناً سفید عمامہ شریف کے محبوب ہونے کا بھی بیان ہے کیونکہ عمامہ بھی لباس کا ہی حصہ ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی سے جب سوال کیا گیا کہ :ذَکَرَ بَعضُھُم اَنَّ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم لَبِسَ عِمَامَۃً صَفرَائَ فَھَل لِذَالِکَ اَصلٌ ؟ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے زرد عمامہ پہنا ہے، تو کیا اس کی کوئی اصل ہے ؟