ر اور یہ مُمانَعَت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تَشَبُّہ ہوتا ہے اس وجہ سے مُمانَعَت ہے، لہٰذا اگر یہ عِلّت نہ ہو تو مُمانَعَت بھی نہ ہوگی، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کُرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زَنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ۔ (بہارِشریعت، ۳/۴۱۵)
سفید عمامہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سفید رنگ نہایت پاکیزہ اور ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے پسندیدہ رنگوں میں سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں سفید کپڑوں کے جو فضائل آئے ہیں وہ دیگر رنگ کے کپڑوں سے متعلق نہیں ملتے چنانچہ
حضرت سیّدنا سَمُرَہ بِن جُندُب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا: سفید کپڑوں کو اختیار کرو، پس تمہارے زندوں کو چاہئے سفید کپڑے پہنیں اور تم اپنے مردوں کو ان میں کفن دو کیونکہ وہ بہترین کپڑوں میں سے ہیں۔ (نسائی، کتاب الزینۃ، باب الامر بلبس البیض من الثیاب، ص ۸۴۳ ، حدیث:۵۳۳۳)
حضرت سیّدنا سَمُرَہ بِن جُندُب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ ہی فرماتے ہیں :