ہیں : میں نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی زیارت کی تو میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی چادر اور عمامہ شریف دونوں زعفران سے رنگے ہوئے تھے۔
(مسند ابی یعلٰی، مسند عبد اللہ بن جعفر الہاشمی، ۶/۳۴، حدیث:۶۷۵۶)
صحابیٔ رسول کا زعفرانی عمامہ
صحابیٔ رسول ، حضرتِ سیّدنازِبْرِقان بن بدر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ زعفران سے رنگا ہوازرد عمامہ شریف سجایا کرتے تھے۔
(اسدالغابہ،باب الزاء ، الزبرقان بن بدر، ۲/۲۹۱، رقم:۱۷۲۸)
زعفران سے رنگے کپڑوں کا مسئلہ
صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :کُسُم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہو جائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے۔ عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں ، ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصاً جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے۔ (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/۵۹۰)