سے رنگتے تھے یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کپڑوں میں بھی زرد رنگ لگ جایا کرتا تھا۔ آپ َرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں ، تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو زرد رنگ سے رنگتے دیکھا ہے اور آپ کو اس سے زیادہ اور کوئی رنگ محبوب نہ تھا آپ پورے لباس کو اس میں رنگتے حتی کہ عمامہ شریف کو بھی اسی رنگ میں رنگا کرتے تھے۔
(ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی المصبوغ بالصفرۃ ، ۴/۷۳، حدیث:۴۰۶۴)
سیّدنا جبریلِ امین کا زرد عمامہ
حضرت سیّدنا حکیم بن حِزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : جب میدانِ بدر میں جنگ شروع ہونے لگی تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سے جو وعدہ فرمایا تھا اس کا سوال کیا، اور عرض کی: الٰہی! اگر آج مسلمانوں پر مشرکین غالب آگئے تو شرک عام ہو جائے گا اور تیرا دین قائم نہیں رہ پائے گا۔ حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض کر رہے تھے : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور آپ کی مدد فرمائے گا اور ضرور آپ کے چہرے کو روشن فرمائے گا۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دشمنوں کے کناروں پر قطار باندھے ہوئے ایک ہزار فرشتے اتارے،