بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں کہ دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ وَ عَلٰی رَاْسِہِ عِصَابَۃٌ صَفْرَائُ یعنی حضور سراپا نور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) کے مرضِ رِحلت میں مَیں حاضرِ خدمت شریف ہوا حالانکہ آپ کے سرمبارک پر عمامہ زرد تھا۔ (الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی إتکاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۹۳، حدیث:۱۲۹)
(۳)حضرت سیّدنا عباد بن حمزہ بن عبداللہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ بدر کے دن فرشتے اس حال میں (زمین پر) اترے کہ وہ سفید پرندوں کی مانندتھے اور انھوں نے زرد عمامے باندھ رکھے تھے ۔اس دن حضرت سیّدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی زرد عمامہ باندھا ہوا تھا ،نبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: نَزَلَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی سِیمَا اَبِیْ عَبْدِاللہِ وَجَائَ النَّبِیُِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ صَفْرَائُ یعنی فرشتے ابوعبداللہ (یہ حضرت سیّدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کُنیت ہے ) کی علامت پر اُترے ہیں۔ اور (پھر) نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم بھی زرد عمامہ شریف زیبِ سر کیے تشریف لائے ۔ (تاریخ ابن عساکر، ذکرمن اسمہ زبیر ، ۱۸/۳۵۴)
(۴)حضرت سیّدنا زید بن اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما اپنی داڑھی مبارک کو زرد رنگ