Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
209 - 479
محمد ابن الحنفیۃ، ۵/۸۵) 
	(۲)حضرت سیّدنا محمد بن زبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھ سے حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ نے حضرت سیّدنا حسن (بصری) عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے جسم ، آپ کے کھانے پینے اور آپ کے لباس سے متعلق پوچھا، حضرت سیّدنا محمد بن زبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ کہتے ہیں : پھر حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ نے فرمایا: مجھے پتا چلا ہے کہ حضرت سیّدنا حسن بصری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِیحرقانی عمامہ پہنتے ہیں ؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں۔ (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ ممن روی عن عثمان و علی الخ، الحسن بن ابی الحسن، ۷/۱۲۶) 
دعوت کے کھانے کا ایک مسئلہ
حضرت سیدنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ نے ایک شخص کو کھانے کی دعوت دی (کھانے کے دوران وہاں) ایک مسکین آگیا تو مہمان نےکھانے سے ایک نوالہ اٹھایا تاکہ اسے دے لیکن  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہنے مہمان سے فرمایا: یہ نوالہ جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو کیونکہ میں نے تمہاری دعوت کی ہے تاکہ تم خود یہ کھانا  کھاؤ ، مجھے یہ پسند نہیں کہ تمہارے مسکین کو نوالہ دینے کی وجہ سے مجھے اجر ملے اور تمہارے سر گناہ ہو   اور تمہارے سر گناہ ہو۔
(مسند ابن الحجر ، باب عمرو بن البختری، الحدیث :۱۲۳، ص ۳۵)