بارگاہِ مصطفٰی سے عطا کردہ عمامہ
خَاتَمُ المُحَدِّثِین حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : شیخ احمد کھتو گنج بخش مغربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینۂ منورہ سے واپسی کے وقت اپنے تین دوستوں کے ہمراہ روضۂ اقدس پر آخری سلام کے لیے حاضر ہوا، روضۂ مبارک کے خادم دس گز کے فاصلے پر سیاہ دستانے پہنے کھڑے تھے ۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا :’’ یہ عمامہ شریف لو اور اسے سر پر باندھ لو۔‘‘ میں نے ان سے عرض کی: میرے مرشد چونکہ ٹوپی ہی پہنا کرتے تھے اس لیے میں یہ عمامہ نہیں باندھوں گا۔ انھوں نے کہا : رات خواب میں رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ہم سے فرمایا تھا: یہ دس گز کا سیاہ عمامہ فلاں شخص کو دینا اور ساتھ ہی میرا پیغام بھی دینا کہ میں اِسے باندھنے کا حکم دیتا ہوں ، اس کو سر پر باندھ لو اور اسلام کی دعوت و تبلیغ میں لگ جاؤ۔ چنانچہ میں نے وہ عطیہ قبول کیا، چوما اور سر پر باندھ لیا۔ (اخبار الاخیار، ص۱۵۸)
حَرقانی عمامہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نبی ٔ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّم کے مختلف رنگ کے عماموں میں ایک حرقانی رنگ کا عمامہ شریف بھی تھا۔ یہ خالص سیاہ رنگ کا نہیں تھا بلکہ جیسے کسی چیز کو آگ سے جلا