Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
204 - 479
 حضرت سیّدنا محمد بن حَنَفِیہَّ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سیاہ عمامہ شریف باندھے دیکھا ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا بالشت بھر یا اس سے کچھ زائد شملہ لٹکا رکھا تھا۔ 
(سیراعلام النبلاء ، ابن الحنفیۃ الخ، ۵/۱۴۹،رقم:۴۰۳)
{5}سّیدنا امام ابو یوسف کا سیاہ عمامہ 
	سیّدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہونہار شاگرد، قَاضِیُ القُضَاۃ  حضرت سیّدنا امام ابویوسُف َرحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سیاہ عمامہ شریف سجانے کا ذکر بھی کُتُب میں موجود ہے چنانچہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے کہ ’’کتبِ فقہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ (سیّدنا امام ابو یوسف)’’ یَومُ الشَّک‘‘ میں یعنی جس روز شُبہ ہو کہ وہ رمضان کی پہلی ہے یا شعبان کی تیس۔ آپ بعدِ ضحوہ کبریٰ کے بازار میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’روزہ کھول دو‘‘۔ اُس وقت کی وَضع منقول ہے کہ سیاہ گھوڑے پر سوار تھے ، سیاہ لباس پہنے تھے، سیاہ عمامہ باندھے تھے، غرض کہ سوائے رِیش (یعنی داڑھی) مبارک کے کوئی چیز سفید نہ تھی۔ اس سے یہ مسئلہ اِسْتِنْباط(یعنی ثابت) کیا گیا کہ ’’سواد (سیاہ رنگ) کا پہننا جائز ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا: آپ کا روزہ ہے یا نہیں ؟ چپکے سے کان میں فرمایا:’’ اَنَاصَائِمٌ میں روزہ سے ہوں۔‘‘اس سے یہ مسئلہ نکلا کہ’’ مفتی خود’’ یَومُ الشَّک ‘‘ میں روزہ رکھے اور عوام کو نہ رکھنے کا حکم دے۔‘‘ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص ۴۸۳)