اور نہ ہی اس کا حکم دیتا ہوں۔ (تاریخ الاسلام ، ۳/۴۴۹)
حضرت سیّدنا ابو جعفر اَنصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہادتِ عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے روز سیاہ عمامہ باندھے دیکھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب اللباس، باب فی العمائم السود، ۱۲/۵۳۷، حدیث:۲۵۴۵۱)
(۴)حضرت سیّدنا ہُرمُز رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : رَاَیْتُ عَلِیًّا مُتَعَصِّبًا بِعِصَابَۃٍ سَوْدَائَ یعنی میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سیاہ عمامہ شریف باندھے ہوئے دیکھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے دو شملے چھوڑے ہوئے تھے (راوی کہتے ہیں ) :مَااَدْرِی اَیَّ طَرَفَیْہَا اَطْوَلَ الَّذِی قُدَّامَہُ اَوِ الَّذِی خَلْفَہُ یعنی میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کون سا شملہ زیادہ لمبا تھا، جسے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے سامنے لٹکایا ہوا تھا یا وہ جسے اپنے پیچھے لٹکا رکھا تھا۔ (طبقات ابن سعد ، طبقات البدریین من المہاجرین ، علی بن ابی طالب ، ذکر لباس علی ، ۳/۲۱)
{2} سیّدنا ابو موسٰی اشعری کا سیاہ عمامہ
حضرت سیّدنا یونس بن عبداللہ جَرمِی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیّدنا امیرِمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی