Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
198 - 479
حضرت علی کو سرکار نے سیاہ عماہ باندھا
	(۲)حضرتسیّدنا حکیم اَ بُوالاَحوَص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور ان کے سر پر سیا ہ عمامہ شریف باندھا ، اور ان (حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ) کے کندھوں کے درمیان شملہ لٹکا کر فرمایا : ھٰکَذَا فَاعْتَمُّوْا یعنی یوں عمامہ باندھا کرو۔ (میزان الاعتدال، حرف العین ، من اسمہ عبد اللہ ، عبداللہ بن بسر ، ۲/۳۰۵) 
یومِ شہادتِ عثمان حضرت علی کا سیاہ عمامہ 
	(۳)حضرت سیّدنا  ابو جعفرمحمد بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : (جب حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر کا باغیوں نے مُحاصَرہ کر رکھا تھا اس وقت ) حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیّدنا علی المرتضیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے پاس بلانے کے لئے (کسی کو ) بھیجا، حضرت سیّدناعلی ا لمرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے پاس آنے کا ارادہ کیا تو لوگ آپ ( حضرت سیّدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ) سے لپٹ گئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو روک دیا ، تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے سر سے سیاہ عمامہ شریف اتارا ، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی: اللہُمَّ لَا اَرْضٰی قَتْلَہ وَلَا آمِرٌ بِہ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں حضرت سیّدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے قتل سے نہ تو راضی ہوں