سالی میں مبتلا ہوئے فَخَرَجَ مِنَ المَدِینَۃِ اِلٰی بَقِیعِ الغَرْقَدِ مُعتَمًّا بِعِمَامَۃٍ سَوْدَاء قَدْ اَرخٰی طَرَفَھَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَالاٰخَرُ بَیْنَ مَنْکِبَیْہِ یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم مدینہ منورہ سے بقیعِ غَرقَد (جَنَّتُ البَقِیع) کی طرف تشریف لے گئے، اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم سیاہ عمامہ پہنے ہوئے تھے جس کا ایک شملہ اپنے سامنے اور دوسرا اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا ئے ہوئے تھے۔ (کنزالعمال ، کتاب الصلاۃ ، الباب السابع فی صلاۃ النفل، صلاۃ الاستسقاء ، الجز۸، ۴/۲۰۳، حدیث:۲۳۵۴۱)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو سیاہ عمامہ شریف باندھے دیکھا جس کا شملہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے سامنے (یعنی سینۂ اقدس) پر لٹکا رکھا تھا۔ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۱)
صحابۂ کرام کے سیاہ عمامے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں کے عمامے سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سیاہ عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے چند ایک کے مبارک عماموں کا