Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
194 - 479
 اس (سیاہ عمامے ) میں اشارہ ہے کہ یہ دین تبدیل ہونے والا نہیں ہے جیسا کہ سیاہ رنگ تبدیل نہیں ہوتا جبکہ دوسرے رنگ (کہ وہ جلدی )بدل جاتے ہیں۔ (حاشیۃ القسطلانی علی الشمائل ، باب ما جاء فی عمامۃ رسول اللہ، ص ۲۲۱، مخطوط مصور) 
	حضرت سیّدنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں : غزوۂ خندق کے روز نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم کا عمامہ مبارک سیاہ رنگ کا تھا۔ (شعب الایمان ، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۳، حدیث:۶۲۴۷) 
	حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں : نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا ایک سیاہ عمامہ شریف تھا یَلبَسُہَا فِی العِیدَینِ وَ یُرخِیہَا خَلفَہ یعنی : جسے آپ عیدین پر پہنا کرتے اور شملہ پیچھے لٹکایا کرتے تھے۔ 
(الکامل فی ضعفاء الرجال ، من اسمہ محمد ، محمد بن عبیداللہ الخ، ۷/۲۴۹) 
سرکار عَلَیْہِ السَّلام اور حضرت عباس کے سیاہ عمامے 
	حضرت سیّدنا ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : فتحِ مکہ کے دن نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اور حضرت سیّدنا عباس بن عبدالمطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تحنیک (یعنی ٹھوڑی کے نیچے شملہ گھمائے)  بغیر اپنے سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ اس وقت بیت اللہ شریف کے اِردگرد بت تھے، جب نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ان بتوں کو توڑنا شروع کیا تو (حضرت سیّدنا