مجلس مبارک تھی جس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم جلوہ فرما ہوئے تھے۔ آپ نے اس وقت ایک بڑی چادر اپنے مبارک کندھوں پر ڈال رکھی تھی اور سرِ اقدس پر چکنی پٹی یا سیاہ رنگ کا عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثنا بیان کی پھر فرمایا:’’بے شک لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھتی رہے گی اور انصار کم ہوتے رہیں گے حتی کہ کھانے میں نمک کے برابر رہ جائیں گے۔ پس تم میں سے جس کو ایسی حکومت ملے کہ وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتاہو تو اسے چاہئے کہ انصار کے اچھے لوگوں کی قدر کرے اور ان کے دوسروں کی کوتاہیوں سے درگزر کرے۔‘‘ (بخاری ، کتاب المناقب ، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/۵۰۸، حدیث:۳۵۲۸)
حضرت سیّدنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَسلَّم فتحِ مکہ کے روز سیاہ عمامہ باندھے (مکہ شریف میں ) داخل ہوئے۔ (مسلم، کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، ص ۷۰۸، حدیث:۱۳۵۸، الشمائل المحمدیہ ، باب ماجاء فی عمامۃ رسول اللہ، ص۸۲، حدیث: ۱۰۷)
فتح مکہ کے دن سیاہ عمامہ کی حکمت
شارحِ بخاری امام احمد بن محمد قَسطَلانی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث کے تحت نقل فرماتے ہیں : (فتحِ مکہ کے دن) سیاہ عمامہ شریف سجانے میں راز یہ تھا کہ