Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
189 - 479
 وزیر حیران   رہ گیا اور متأثر ہو کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بات کی تحسین و تعریف کرتے ہوئے مقامِ عزت بخشا۔ (الشقائق النعمانیۃ،۱/۱۲۷)
عمامہ شریف کے رنگ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ احادیثِ مبارکہ میں عمامہ شریف کے مختلف رنگوں کا ذکر ہے اس لیے کسی بھی رنگ کا عمامہ باندھنے سے سنّتِ عمامہ ادا ہو جائے گی۔ ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم، صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان اور تابعینِ عُظّام نیز اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام سے مختلف رنگوں کے عمامے باندھنا ثابت ہے، ان تمام ہستیوں میں سے کوئی سیاہ، کوئی سفید و سبز تو کوئی زعفرانی رنگ کا عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔ عمامہ شریف کے فضائل میں وارِد اَحادِیث مُطلَق ہیں یعنی ان میں کسی فضیلت کو کسی خاص رنگ کے ساتھ مُقَیَّد نہیں کیا کہ فلاں رنگ کا عمامہ باندھو گے تو ہی یہ فضیلت حاصل ہو گی۔ نیز علماء و فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے بھی سنتِ عمامہ کی ادائیگی کو کسی خاص رنگ میں مُنحَصِر نہیں کیا۔ لہٰذا کسی بھی رنگ کا عمامہ باندھنے سے سنّتِ عمامہ ادا ہو جائے گی اور عمامہ باندھنے والا احادیث میں ذکر کردہ فضائل کا مستحق قرار پائے گا۔ اس باب میں کہیں آقائے نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کے عمامۂ نور بار کے رنگوں کا ذکرِ خوشبودار ہے تو کہیں صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان