Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
188 - 479
بارگاہِ الٰہی کی رعایت
	عالمِ جلیل، فاضلِ نبیل، حضرتِ علامہ مولانا یوسف بن حسین کرماسنی عَلَیْہِ َرحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے، کئی سالوں کی تدریس کا تجربہ رکھتے تھے، مُملکتِ رُوم اور قُسْطُنْطُنِیَہ میں قاضی (چیف جسٹس/جج) کے منصب پر فائز رہ چکے تھے، جن کے فیصلوں کوان کی خوبیوں کے سبب بڑا پسند کیا جاتا تھا اور وہ حق کی تلواروں میں سے ایک تلوار تھے جواللہ عَزَّوَجَلَّ کے معا ملے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے (یعنی ہر حال میں حق بات کیا کرتے تھے) ایسی اَرْفع و اَعلیٰ شان رکھنے والے بزرگ ایک روز چھوٹا سا عمامہ شریف باندھ کر مسجد تشریف لے گئے۔ جب نماز سے فراغت کے بعد باہر تشریف لائے تو اس وقت کے وزیر ابراہیم پاشا نے آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کسی کام کے لیے طلب کیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسجد کے مقابلے میں وزیر کو ترجیح (یعنی زیادہ عزت )دینے کے خوف سے عمامہ شریف تبدیل کیے بغیراسی حالت میں تشریف لے گئے۔ جب وزیر نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس حالت میں دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کا ایمان افروز جواب کچھ یوں ارشاد فرمایا: میں یہ بات ہرگز گوارا نہیں کر سکتا کہ وزیرکے پاس جانے کے لئے اس حالت کو ترک کروں جس کو میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کے لئے اِختیار کیا۔ یہ بات سن کر