تختِ عُرُوس بچھایا جاتا اس وقت باہرتشریف لاتے اور نہایت خُشُوع سے اس پر جُلُوس فرماتے اور جب تک حدیث بیان کرتے تھے اگربتی سُلگاتے اور اس تخت پر اسی وقت بیٹھتے تھے جب نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کی حدیث بیان کرنا ہوتی۔ حضرت سے اس کا سبب پوچھا، فرمایا: میں دوست رکھتاہوں کہ حدیثِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کی تعظیم کروں اور میں حدیث بیان نہیں کرتا جب تک وضو کر کے خوب سکون و وقار کے ساتھ نہ بیٹھوں۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی ، القسم الثانی ، الباب الثالث، ۲/۴۵ ، فتاویٰ رضویہ، ۲۶/۵۴۷)
افتاء کی عظمت امام ابویوسف کی نظر میں
صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : (حضرت سیّدنا) امام ابویوسف رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی سے فتویٰ پوچھا گیا وہ سیدھے بیٹھ گئے اور چادر اوڑھ کر عمامہ باندھ کر فتویٰ دیا یعنی اِفتا کی عظمت کا لحاظ کیا جائے گا (فتاوی ھندیۃ، کتاب ادب القاضی، الباب الاول فی تفسیر معنی الادب الخ، ۳/۳۱۰) اس زمانہ میں کہ علمِ دین کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے اہلِ علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جن سے علم کی عظمت پیدا ہو اس طرح ہرگز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہلِ علم کی وَقعَت میں کمی پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ سے ثابت ہوئی وہ اِحتِیاج