Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
185 - 479
حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الخَالِق فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا ربیع رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ ثُرَیَّا ستاروں کے طلوع ہونے تک عمامہ باندھے رکھتے تھے اور فرماتے: ’’عمامہ باندھنے سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ 
(شرح البخاری لابن بطال، کتاب اللباس، باب العمائم، ۹/۸۹ ملخصاً) 
امام مالک عمامہ باندھ کر حدیث بیان فرماتے 
	حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الخَالِق احادیث مبارکہ کا بے حد ادب و احترام فرماتے ، حدیث پاک بیان فرمانے سے پہلے غسل و خوشبو کا اِلتزام فرماتے ، عمامہ شریف سجاتے پھر لوگوں کے قُلُوب و اَذہان کو فرامینِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم سنا کر گرماتے چنانچہ 
	میرے آقا  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مُجَدِّدِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نقل فرماتے ہیں : (حضرت سیّدنا) مُطَرِّفْ نے کہا جب لوگ (حضرت سیّدنا)  مالک بن اَنَس (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) کے پاس علم حاصل کرنے آتے، ایک کنیز آ کر پوچھتی: شیخ تم سے فرماتے ہیں حدیث سیکھنے آئے ہو یافقہ و مسائل؟ اگر انہوں نے جواب دیا فقہ ومسائل، جب توآپ تشریف لاتے اور اگر کہا کہ حدیث، توپہلے غسل فرماتے، خوشبولگاتے، نئے کپڑے پہنتے، طیلسان  اوڑھتے اور عمامہ باندھتے چادر سر مبارک پر رکھتے ان کے لئے ایک تخت مثلِ