قوم سے ہو؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ہم لوگ عربی ہیں اور ہم نے نبیٔ اکرم، نورِ مُجَسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سے آپ کی بابت یہ ارشاد سنا ہے: ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ اللہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ‘‘ یعنی جس کا میں مَولیٰ ہوں تو علی بھی اس کے مَولیٰ ہیں۔ الٰہی جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما اور جوان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ (پھر اس کے بعد انہوں نے کہا)اور یہ ہمارے درمیان میزبانِ رسول حضرتِ سیّدنا ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود ہیں۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے چہرۂ مبارک سے عمامے شریف کا نقاب ہٹاتے ہوئے فرمایا: میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے : ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ‘‘ (ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔)
(معجم کبیر، ریاح بن الحارث عن ابی ایوب، ۴/۱۷۳،حدیث:۴۰۵۳)
{8}چار باعمامہ صحابۂ کرام
حضرت سیّدنا مسلم بن زِیاد عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الوَھَّاب فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے چار اصحاب حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک، حضرت سیّدنا فَضَالہ بن عُبَید، حضرت سیّدنا اَبُوالمُنِیب اور حضرت سیّدنا فَرُّوخ بن سَیَّار یا سَیَّار بن فَرُّوخ رِضوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِمْ اَجْمَعِیْن کو دیکھا ہے وہ حضرات اپنے