{5}سیّدنا بلالِ حبشی کا عمامہ
حضرت امام ابوعبداللہ محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : مُؤذِّنِ رسول حضرت سیّدنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے معرکۂ فلسطین کے موقع پر اُونی عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔ (فتوح الشام، المعارک فی فلسطین، ۲/۱۷)
{6}سیّدناابو درداء کا عمامہ
حضرتِ سیّدنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ٹوپی پر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے، جس کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان ہوتا۔
(اسدالغابہ، باب العین والواو، عویمر بن عامر، ۴/۳۴۱، رقم:۴۱۳۶)
{7}باعمامہ انصار صحابۂ کرام
حضرت سیّدنا رِیاح بن حارِث نَخْعِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک روز ہم حضرت سیّدنا علی المرتضی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کی صحبتِ بابرَکت میں حاضر تھے کہ اِسی دوران انصار صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کا ایک گروہ سروں پر عمامے شریف کے تاج سجائے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمتِ اَقدَس میں حاضر ہوا اور ان الفاظ کے ساتھ سلام عرض کیا ’’السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلَانَا‘‘ اے ہمارے آقا و مولا آپ پر سلام ہو۔ یہ سن کر حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تعجب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں تمہارا مَولیٰ ہوں اور تم لوگ عربی