عمامے شریف کے شملے پیچھے کی جانب لٹکاتے تھے۔ (شعب الایمان ،باب فی الملابس والاوانی، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۶، حدیث:۶۲۶۴مختصراً)
{9}چار ہزار باعمامہ اصحاب
حضرت سیّدنا اَصبَغ بِن نُباتَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عید کے دن عمامہ شریف سجائے ایک مقام سے نکلتے دیکھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ چار ہزار ایسے لوگ بھی تھے جن سب نے عمامے شریف سجا رکھے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی، کتاب صلوۃ العیدین ، باب الزینۃ للعید، ۳/ ۳۹۸،حدیث:۶۱۴۲)
تابعینِ عُظّام کے عمامے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تابعینِ عُظّام نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سچے عاشق اور ان کی اتباع کرنے والے تھے۔ اسی لئے بے شمار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عمائمِ مبارکہ کے ساتھ ساتھ تابعینِ عُظّام کے عماموں کا ذکربھی ملتا ہے چنانچہ
منصور بن زاذان کا عمامہ
حضرت سیّدنا ہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں میں نے واسط (عراق) کی جامع مسجد میں (کثرت سے تلاوت کرنے والے تابعی بزرگ) حضرت