Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
18 - 479
 کتاب السنۃ ، باب فی لزوم السنۃ، ۴/۲۶۷، حدیث:۴۶۰۷، ملتقطًا) 
سنّت کی اہمیت 
	 ایک مسلمان اور سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سچے غلام ہونے کے ناطے لازم ہے کہ ہم اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو ں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنّتوں کو عمل کے ذریعے خوب عام کریں ، کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے طریقوں پر عمل کرنا ہی ہمارے لئے ترقیٔ درجات کا زینہ ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ خداوندی ہے: 
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ 
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (پ۲۱، الاحزاب: ۲۱) 
	
حضرتِ صَدرُ ا لْافاضِل سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الہَادِی ’’ خَزائنُ العرفان ‘ ‘ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ان کی اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب پر صبر کرو اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے۔ (خزائن العرفان، پ۲۱، الاحزاب: ۲۱،ص۷۷۷) 
	مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان