Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
17 - 479
رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا ہِبَۃُ اللہ طَبَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو خو اب میں دیکھ کر پوچھا:’’ مَا فَعَلَ اللہُ بِکَیعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟‘‘ جواب دیا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفرت فرمادی ۔‘‘عرض کی: ’’کس سبب سے؟‘‘ تو انھوں نے راز دارانہ انداز میں کہا : ’’سنّت پر عمل کی برکت سے۔‘‘ 
(سیراعلام النبلاء، اللالکائی(ہبۃ اﷲ بن الحسن) ، ۱۳/۲۶۹، رقم:۳۷۸۸)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے سنّت پر عمل کرنا مغفرت کا ذریعہ بن گیا۔ یقیناً کامیاب و کامران وہی ہے کہ جوفرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے کیونکہ فلاحِ دارین کا جو وظیفہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی امت کو خاص طور پر عطا فرمایا وہ یہ ہے کہ فتنوں کے زمانے میں سنّت کو مضبوطی سے تھام لیں چنانچہ 
سنت کو مضبوطی سے تھام لو
	حضرت سیّدنا عِرباض بن سارِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ امت میں کثیر اختلافات دیکھے گا ایسے حالات میں تم پر لازم ہے کہ میری سنّت اور خلفاء راشدین کے طریقے کو مضبوطی سے تھام لو ۔ (ابوداؤد،