{2}سیّدنا فاروقِ اعظم کا عمامہ
حضرت سیّدنا سائب بن یزید عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ المَجِید فرماتے ہیں : میں نے عید کے دن حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زیارت کی آپ نے عمامہ یوں باندھ رکھا تھا کہ اس کا شملہ آپ کی پشت پر لٹک رہا تھا۔
(شعب الایمان، باب فی الملابس الخ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۴، حدیث:۶۲۵۵)
حضرت سیّدنا طارق بن شہاب عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الوَھَّاب سے مروی ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام تشریف لائے تو راستے میں ایک اسلامی لشکر کی آپ سے ملاقات ہوئی ، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سر پر عمامہ شریف سجائے ، موزے او ر ازار (تہبند) پہنے ہوئے تھے اور اپنی سواری کی لگام تھامے ہوئے پانی میں اتر گئے( آپ کی اس حالت کو دیکھ کر ) لشکر والوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا : اے امیر المؤمنین! یہاں کئی لشکر اور ملکِ شام کے جرنیل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کریں گے اور آپ اس حالت میں ہیں تو حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے لہٰذا کوئی بھی اسلام کے علاوہ میں ہرگز عزّت تلاش نہ کرے۔‘‘ (المنھاج فی شعب الایمان ،الحادی و السبعون من شعب الایمان ، باب فی الزھد الخ، ۳/۳۸۷)