نماز میں اس سے بچنا اختیار فرمایا جس کا مَنشاء وہی حفظِ دینِ عوام (یعنی لوگوں کے دین کی حفاظت ) ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۲/۳۱۴)
صحابۂ کرام کے عمامے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے سچے مُحب اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے اقوال و افعال کی اتباع کرنے والے تھے۔ اسی لئے آقائے دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو جب بھی کوئی عمل کرتا پاتے اس کی اتباع و پیروی اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں جہاں نبیٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے عمامہ ٔ پرنور کا بیانِ پُر سرور ہے وہیں بے شمار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عمائمِ مبارکہ کا دِل کَش تذکرہ بھی موجود ہے چنانچہ
{1}صحابۂ کرام باعمامہ رہتے
حضرت عُبیدُ اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ہمیں ہمارے اساتذۂ کرام نے بتایا کہ ہم صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کی زیارت کیا کرتے تھے وہ نُفُوسِ قُدسِیَہ اپنے سروں پر عمامے شریف کے تاج سجاتے تھے جن کے شملے ان کے دوش ہائے مبارک (یعنی کندھوں ) کے درمیان لٹکے ہوتے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب اللباس،باب فی ارخاء العمامۃ بین الکتفین، ۱۲/۵۴۲، حدیث:۲۵۴۷۷)