Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
175 - 479
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالمگیری و شامی وغیرہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وَسطِ رَأس بالکل مَکشُوف ہو ٹوپی وغیرہ کوئی چیز بیچ میں نہ ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم 
الجواب صحیح :جلال الدین احمد الامجدی        کتبہ: محمد عماد الدین قادری
(فتاویٰ فقیہ ملت ، ۱/۱۸۴)
طُرّہ رکھنے کا حکم 
	میرے آقا  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :’’ یہ جو بعض لوگ طُرَّہ کے طو ر پر چند انگل اونچا (شملہ) سر پر چھوڑتے ہیں اس کا ثبوت میری نظر میں نہیں ، نہ کہیں ممانعت، تو اباحتِ اَصلیہ پر ہے۔ (یعنی جائزہے ) ۔ مگر اس حالت میں کہ یہ کسی شہرمیں آوارہ و فُسَّاق لوگوں کی وضع (یعنی طریقہ) ہو تو اس عارِض (پیش آنے والے) کے سبب اس سے اِحتراز (بچنا) ہو گا۔ واللہ تَعالٰی اعلم
(فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۲۰۰) 
کب عمامے کا شملہ نہ چھوڑناچاہئے؟
	میرے آقا  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن تحریر فرماتے ہیں : عمامہ کا شملہ چھوڑنا یقیناسنّت مگر جہاں جُہّال (یعنی اَن پڑھ لوگ) اس پر ہنستے ہوں وہاں علمائے مُتَاخرِین نے غیرِحالتِ