ہوتا ہے کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں بھی اعتجار ہوتا ہے۔ لیکن یہ فتویٰ آپ نے ۱۳۹۱ ھ میں تحریر فرمایا تھا اور اس وقت تک آپ کی یہی تحقیق تھی جب کہ بعد میں آپ کی یہ تحقیق بدل گئی تھی اور آپ نے بھی حضرت صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے مؤقف کی طرف رجوع فرما لیا تھا لہٰذا بعد میں جو فتویٰ لکھوایا بمع استفتاء درج ذیل ہے ۔
مسئلہ: عمامہ سر پر اس طور پر باندھا کہ بیچ میں ٹوپی زیادہ کھلی رہی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی یا تنزیہی؟ بینوا توجروا ۔
الجواب: حضرت صدر الشریعہ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ تحریر فرماتے ہیں : ’’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں اعتجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ اعتجار اسی صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔‘‘ (فتاویٰ امجدیہ ، ۱/۳۹۹)
اس کے حاشیہ میں حضرت مفتی شریف الحق امجدی قُدِّسَ سِرُّہُ العَزِیز تحریر فرماتے ہیں۔ ’’اختار ما فی الظھیریۃ واما ما قال العلامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی المراد انہ مکشوف عن العمامۃ لا مکشوف اصلا لانہ فعل مالا یفعل
’’ففیہ نظر ‘‘:’’لان کثیرا من جفات الاعراب یلفون المندیل و العمامۃ حول الراس مکشوف الھامۃ بغیر قلنسوۃ ‘‘
اس سے ظاہر ہوا کہ صورت مسؤلہ میں نماز مکروہ تنزیہی ہوگی نہ کہ تحریمی تو