قُدِّسَ سِرُّہ ُ السَّامِی سے منقول قول میں اسی صورت کو اعتجار قرار دیا ہے اور دیگر فقہائے کرام نے بھی اسے اعتجار کی ایک صورت بتایا ہے۔ اس کے مکروہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے خَاتَمُ المُحَقِّقِین حضرت علامہ محمد امین ابن عابدین شامی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز میں ناک اور منہ کا چھپا لینا مجوسیوں سے مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے ۔ (درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا،مطلب :الکلام علی اتخاذ المسبحۃ،۲/۵۱۱)
حضرت علامہ ابن نُجیم مصری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : (اعتجار کی یہ صورت اس لئے مکروہ ہے کہ ) حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : لَا یُغَطِّی الرَّجُلُ اَنْفَہُ وَ ہُوَ یُصَلِّی یعنی کوئی بھی شخص اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کی ناک چھپی ہوئی ہو۔ (بحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ الخ ، ۲/۲۵)
ایک ضروری وضاحت
فقیہ مِلّت حضرت علّامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے ’’ دارالافتاء فیض الرسول براؤں شریف سے جاری شدہ1012 فتاویٰ کا مستند ذخیرہ بنام ’’فتاویٰ فیض الرسول‘‘ کے حصہ اول صفحہ369 پر اور یہی فتویٰ ’’فتاویٰ فیض الرسول‘‘ حصہ سوم صفحہ 110 تا 111 پر موجود ہے جس سے معلوم