کھلا) ہو ٹوپی وغیرہ کوئی چیز بیچ میں نہ ہو۔ واللہ تَعالٰی اعلم (فتاویٰ فقیہ ملت ، ۱/۱۸۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا اگر کسی نے ٹوپی پر عمامہ یوں باندھا کہ صرف ٹوپی کا اوپر والا حصہ کھلاہو اور ٹوپی دکھائی دے رہی ہو تو یہ اِعتجار نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں نہ تو اہلِ کتاب اور مشرکین سے کوئی مشابہت ہے اور نہ ہی فُّسّاق اور اوباش لوگوں کے عمل سے کوئی مشابہت ہے۔
{2}اعتجار کی دوسری صورت
بالوں کو رومال سے سر پر لپیٹ لے اور یہ صورت عَاقِصِ شَعَر (یعنی بالوں کاجُوڑا بنانے) کی طرح ہو گی اور عَقصِ شَعَر مکروہ ہے جیسا کہ حدیث مبارک ہے حضرت سیّدنا ابو رافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : نَہٰی رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَ سَلَّم اَنْ یُّصَلِّی الرَّجُلُ وَ رَاْسُہ مَعقُوصٌ ، یعنی: رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے بالوں کو سر پر (جُوڑے کی طرح) باندھ کر نماز پڑھنے سے مردوں کو منع فرمایا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب کف الشعر والثوب، ۲/۱۲۰، حدیث:۲۹۹۵)
{3}اعتجار کی تیسری صورت
نماز میں کسی کپڑے یا عمامہ سے اس طرح نقاب کرنا جس سے ناک چھپ جائے جیسے عورتیں نقاب کرتی ہیں۔ حضرت سیّدنا امام محمدبن حسن شیبانی