فرماتے ہیں :’’ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں اِعتِجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ اِعتِجار اسی صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔‘‘ (فتاویٰ امجدیہ ، ۱/۳۹۹)
فقیہِ ملّت اور مسئلۂ اعتجار
فقیہ ملِّت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی اِعتِجار کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال (عمامہ سر پر اس طور پر باندھا کہ بیچ میں ٹوپی زیادہ کھلی رہی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی یا تنزیہی؟) کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : حضرت صدر الشریعۃ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں اِعتِجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ اِعتِجار اسی صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔‘‘(فتاویٰ امجدیہ ، ۱/۳۹۹) اس کے حاشیہ میں فقیہِ اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی شریف الحق امجدی قُدِّسَ سِرُّہُ العَزِیز تحریر فرماتے ہیں ’’اختار ما فی الظھیریۃ واما العمامۃ لا مکشوف اصلاً لانہ فعل مالا یفعلہ ففیہ نظر لان کثیراً من جفات الاعراب یلفون المندیل و العمامۃ حول الراس مکشوف الھامۃ بغیر قلنسوۃ‘‘ اس سے ظاہر ہوا کہ صورتِ مسؤلہ میں نماز مکروہ تنزیہی ہو گی نہ کہ تحریمی تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالمگیری و شامی وغیرہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وَسطِ رَأس (یعنی سر کا درمیانی حصہ) بالکل مَکشُوف (یعنی