سے مشابہت کی وجہ سے مکروہ قرار دیا ہے۔ دیگر فقہائے کرام نے بھی اسے فُسّاق (یعنی بدکردار) اور شریر لوگوں سے مشابہت کی علّت کے باعث مکروہ قرار دیا ہے جیسا کہ صَاحبِ فَتحُ القَدِیر حضرت علامہ ابن ہمام عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ الاَنَام لکھتے ہیں : وَیُکْرَہُ الِاعْتِجَارُ اَنْ یَلُفَّ الْعِمَامَۃَ حَوْلَ رَاْسِہِ وَیَدَعَ وَسطَہَا کَمَا تَفْعَلُہُ الدَّعرَۃُ وَمُتَوَشِّحًا لَا یُکْرَہُ یعنی: اعتجار مکروہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سر کے گرد عمامہ باندھ لیا جائے اوراس کے درمیان کو کھلا چھوڑ دیا جائے جیسا کہ شرارتی اور فُسّاق لوگ کرتے ہیں اور پورا سر ڈھکا ہونے کی صورت میں کراہت نہیں ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ، فصل ویکرہ للمصلی ان یعبث بثوبہ الخ، ۱/۳۵۹)
اعلٰی حضرت اور مسئلۂ اعتجار
امام اہلسنّت ، مجدد ِدین و ملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :’’عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو نہ چھ گز سے زیادہ، اور اس کی بندش گنبد نما ہو جس طرح فقیر باندھتا ہے، عرب شریف کے لوگ جیسا اب باندھتے ہیں طریقہ سنّت نہیں اسے اِعتِجار کہتے ہیں کہ بیچ میں سر کھلا رہے اور اعتجار کو علماء نے مکروہ لکھا ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ۲۲/۱۸۶)
صدر الشریعہ اور مسئلۂ اعتجار
صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی