Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
16 - 479
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ 
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ 

دُرُود پاک کی فضیلت
	سرکارِ ابدقرار ، صاحبِ عمامۂ نور بار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا اِرشاد خوشبودار ہے:’’ ثَلَاثَۃٌ یَومَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ عَرْشِ اللہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہٗ‘‘ یعنی قیامت کے روزجبکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا،تین طرح کے لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے۔ عرض کیا گیا: یارسولَ اللہ!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم وہ کون لوگ ہوں گے؟ ارشاد فرمایا: (۱)’’مَنْ فَرَّجَ عَنْ مَکْرُوْبِ اُمَّتِی یعنی وہ شخص جو میرے کسی اُ مَّتِی کی پریشانی دُور کردے۔‘‘(۲) ’’وَمَنْ اَحْیَا سُنَّتِی،میری سُنَّت کو زِندہ کرنے والا۔‘‘ (۳)’’وَمَنْ اَکْثَرَ الصَّلَاۃَ عَلَیَّ اور مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھنے والا۔ ‘‘(تسدید القوس اختصار مسندالفردوس، ص ۱۶۳مخطوط مصور، البدور السافرۃ فی امور الاخرۃ ، باب الاعمال الموجبۃ لظل العرش الخ، ص۱۳۱، حدیث:۳۶۶) 

سنّت پر عمل کی برکت سے مغفرت ہوگئی
	حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ شمس الدین محمدبن احمد ذَہبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا علی بن حسین بن جَدَّاء عُکْبَری عَلَیْہِ