لِمَا ذَکَرْنَا وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَہُ اللہُ اَ نَّہُ قَالَ: لَا یَکُونُ الِاعْتِجَارُ اِلَّا مَعَ تَنَقُّبٍ وَہُوَ اَنْ یَلُفَّ بَعْضَ الْعِمَامَۃِ عَلَی رَاْسِہِ وَیَجْعَلَ طَرَفًا مِنْہَا عَلَی وَجْہِہ کَمُعْتَجِرِ النِّسَاءِ اِمَّا لِاَجْلِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ اَوْ لِلتَّکَبُّرِ یعنی اِعتِجار کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اس لیے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہ وَسَلَّم نے اعتجار سے منع فرمایا ہے۔ اعتجار کے بارے میں ( علما ء کا) اختلاف ہے ۔ پہلاقول: اعتجار یہ ہے کہ سر کے گرد رومال اس طرح باندھا جائے کہ سر کا درمیانی حصہ کھلا چھوڑ دیا جائے اس صورت میں اہلِ کتاب کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔ دوسرا قول: (اعتجار یہ ہے ) کہ بالوں کو رومال کے ذریعے سر پر لپیٹ لیا جائے پس یہ ایسے ہو جائے گا کہ جیسے کسی نے اپنے بالوں کا جُوڑا بنا لیا ہو، اور بالوں کاجوڑا بنانا (مردوں کو) مکروہ ہے۔ تیسرا قول: امام محمد رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ کا ہے کہ ِاعتِجار میں نقاب کا ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ عمامہ کا کچھ حصہ تو سر پر لپیٹ لیا جائے اور اس کا ایک سرا چہرے پر عورتوں کے دوپٹے کی طرح ڈال لیا جائے ، (عمامے کے سرے کا نقاب کی طرح ڈالنا ) چاہے گرمی و سردی سے بچاؤ کے لیے ہو یا تکبر کیلئے ۔
(بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ ، فصل واما بیان ما یستحب فیہا وما یکرہ ، ۱/۵۰۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فُقَہائے کرام نے اعتجار کی جو صورتیں بیان فرمائی ہیں ان کی تفصیل اور احکام بالترتیب یہ ہیں چنانچہ