Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
167 - 479
باندھتے ہیں کہ سر ننگا رہتا ہے۔ یہ مکروہ ہے کیونکہ یہ اہلِ کتاب اور فاسق و فاجر لوگوں کا طریقہ ہے، اسے اِعتِجار کہا جاتا ہے۔ 
اِعتِجار کی تعریف
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’اِعتِجَار ‘‘عربی زبان کالفظ ہے جس کا لغوی معنی:’’ سر پر عمامہ لپیٹنا یا خواتین کا سر پر دوپٹہ لینا ہے۔‘‘ حضرت علامہ حسن بن عمار بن علی شَرُنبُلالی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الوَالی اِعتجار کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ سر پر رومال اس طرح باندھنا کہ درمیان کا حصہ ننگا رہے یہ اِعتِجار ہے ‘‘۔ (نورالایضاح مع مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، فصل فی مکروہات الصلاۃ ، ص ۱۷۹) 
 	فُقَہائے کرام اور محدثینِ عُظّام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے اعتجار کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے ، اس کی مختلف صورتوں کو بھی بیان فرمایا ہے ۔ ذیل میں اس کی تمام صورتیں بالترتیب بیان کی گئی ہیں چنانچہ 
	اِعتِجار کا مسئلہ ذکر کرتے ہوئے ملک العلماء علّامہ علاء الدین کاسانی عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّبَّانِی لکھتے ہیں : وَیُکْرَہُ اَنْ یُصَلِّیَ مُعْتَجِرًا لِمَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اَ نَّہُ نَہٰی عَنِ الْاِعْتِجَارِ وَاخْتُلِفَ فِی تَفْسِیرِ الِاعْتِجَارِ وَ قِیلَ: ہُوَ اَنْ یَشُدَّ حَوَالَیْ رَاْسِہِ بِالْمِنْدِیلِ وَیَتْرُکَہَا مِنْہُ وَہُوَ تَشَبُّہٌ بِاَہْلِ الْکِتَابِ ، وَقِیلَ: ہُوَ اَنْ یَلُفَّ شَعْرَہُ عَلَی رَاْسِہِ بِمِنْدِیلٍ فَیَصِیرُ کَالْعَاقِصِ شَعْرَہُ وَالْعَقْصُ مَکْرُوہٌ