Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
166 - 479
یہ بات آپ کے منصب کے مناسب نہیں کہ بغیر کسی رخصت و اجازتِ شرعی کے ذرّہ برابر بھی کوئی کام کریں۔ اس لیے کہ عوام کی ہدایت و رہنمائی آپ سے متعلق ہے۔ آپ کو اپنے ہر معاملے میں اِحتیاط برتنا اور شریعت کی پابندی کرنا لازمی ہے۔ 
(ملفوظات مشائخ مارہرہ،ص۱۰) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن کیسی مدَنی سوچ رکھتے تھے ، یہاں تک کہ مستحبّات (کہ جن کے نہ کرنے پر کوئی سزا نہیں )کے ترک کو بھی نا پسند فرماتے تھے، تبھی آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب انہیں عمامہ( جو کہ آدابِ نماز سے ہے )کے بغیر نیز سَدَل بھی کیے دیکھا جو کہ نماز کی کراہیّتِ تحریمیہ کا سبب ہے تو فوراً بطورِتادیب آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نہ صرف وہاں سے تشریف لے گئے بلکہ ان کے مقام و مرتبہ کو خاطر میں لائے بغیر بذریعہ مکتوب ان کی اصلاح کا سامان بھی فرمایا۔ کیونکہ اصل نجاتِ اُخروی کا دارو مدار تو شریعتِ اسلام کی اِتّباع میں ہے۔ کاش کہ ہم بھی اپنے اَسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فرائض و واجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ سُنَنُ و مستحبّات پر عمل کا مدَنی ذہن بنالیں۔ 
عمامے میں اعتجار کا مسئلہ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ بغیر ٹوپی کے اس طرح عمامہ