Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
165 - 479
 میر سیّد عبد الواحدقادری چشتی بَلگرامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفّٰی۱۰۱۷ ھ) کے ایک دوست سیّد سلطان (رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) جو باکرامت ولیُّ اللہ تھے اور جن کی کرامتوں میں مردہ زندہ ہوجانے کے واقعات بھی شامل ہیں جو متعدد غیر مسلموں کے ایمان لانے کا سبب بھی بنے۔ ایک بار حضرتِ سیّدنا سیّد میر عبد الواحد بَلگرامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ملاقات کا شرف پانے ان کے وطن بَلگرام حاضر ہوئے اور آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تشریف آوری تک وہ فرض نماز میں مشغول ہو گئے۔ دورانِ نماز آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تشریف لے آئے اور انہیں بغیر عمامہ صرف ٹوپی میں نماز پڑھتے دیکھا، اس کے علاوہ انہوں نے اپنا رومال اپنے کندھوں پر بطریقِ سَدَل(1) ڈالا ہوا تھا۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ان کی یہ بے احتیاطی ملاحظہ فرما کر ملاقات کیے بغیر واپس تشریف لے گئے۔ جب انہیں معلوم ہواتو بہت پریشان ہوئے ،چنانچہ انہوں نے آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک مکتوب روانہ کیا جس میں اپنی کو تاہی پر نادم ہو نے کے ساتھ ساتھ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ملاقات کی التجائیں بھی کیں۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے انہیں جواباً تحریر فرمایا کہ آپ مُقْتدا (یعنی جن کی پیروی کی جائے) اور رہنما ہیں۔ 


1…یعنی کندھوں پر کپڑے کو اس طرح ڈالنا کہ اس کے دونوں کنارے لٹک رہے ہوں یہ نماز میں مکروہ ہے۔