ہیں : شملے کی اقل (کم از کم) مقدار چار انگشت (یعنی انگلیاں ) ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ اور بعض نے نشست گاہ (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے موضعِ جلوس (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک پہنچے، اور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت (یعنی پیٹھ) سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریباً وہی ایک ہاتھ ہے۔ حد سے زیادہ داخلِ اِسراف ہے۔ اور بہ نیتِ تکبر ہو تو حرام ، یونہی نشست گاہ سے بھی نیچا مثلاً رانوں یا زانوں تک یہ سخت شَنِیع ومَمنُوع (یعنی بُرا و منع) ، اور بعض انسانِ بدوضع آوارہ رِندوں (یعنی آوارہ گردوں ) کی وضع (یعنی انداز) ہے۔ ڈیڑھ ہاتھ کا شملہ اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو اسے حرام کہنا نہ چاہئے۔ خصوصاً اس حالت میں کہ بعض علماء نے مَوضعِ جُلُوس تک بھی اجازت دی مگر حرام کہنے والے کو گنہگار بھی نہ کہیں گے جبکہ اس نے حرام بمعنی عام یعنی ممنوع لیا ہو جو مکروہ تحریمی کو شامل ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ،۲۲/۱۸۲)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’دامنوں اور پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں اور آستینوں میں انگلیوں سے نیچے اور عمامہ میں یہ کہ بیٹھنے میں دبے۔‘‘ (بہار ِشریعت ، ۱/۶۳۲)
ایک ولیّ اللہ سے ترکِ ملاقات!
حضرت سَنَدُ المُحَقِّقِین،قُدوَۂ اَنام، زُبدۂ ساداتِ کرام، سیّدُ السّادات