Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
163 - 479
الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ اِزار (یعنی تہبند) کا گِٹّوں سے نیچے رکھنا اگر برائے تکبُّر ہو تو حرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی اور نماز میں بھی اس کی غایت (اِنتہا) خلافِ اولیٰ (ہے)۔ صحیح بخاری شریف میں ہے: ’’صدیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ میرا تہبند لٹک جاتا ہے جب تک میں اس کا خاص خیال نہ رکھوں۔ فرمایا: لَستَ مِمَّن یَّصنَعَہ خُیَلٓاء (تم ان میں نہیں ہو جوبراہِ تکبّر ایسا کریں ) 
(بخاری، کتاب اللباس ، باب فی جرازارہ من غیرخیلاء ، ۴/۴۵، حدیث:۵۷۸۴)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے : اِسبَالُ الرَّجُلِ اِزَارَ ہ اَسفَلَ مِنَ الکَعبَینِ اِن لَّم یَکُن لِلخُیَلَائِ فَفِیہِ کَرَاھَۃُ تَنزِیہٍ کَذَا فِی الغَرَائِب یعنی کسی آدمی کاٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا کر چلنا اگر تکبر کی بناپر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔ غرائب میں یونہی ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب التاسع فی اللبس الخ، ۵/۳۳۳)
(فتاویٰ رضویہ ، ۷/۳۸۸) 
نوٹ : پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لیے فتاویٰ رضویہ ،ج۲۲ ص۱۶۴تا ۱۶۹ کا مطالعہ کیجئے۔ 

عمامہ میں اِسبال کی صورت
	سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن تحریر فرماتے