لٹکانا‘‘۔ اِسبال کی شرعی تعریف کرتے ہوئے صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : اِسبال کپڑا حدِمُعتَاد سے بافراط دراز رکھنا منع ہے ۔ (بہار ِشریعت، ۱/۶۳۲) یعنی عام طور پر عادۃً جتنا کپڑا لٹکایا جاتا ہے اس سے زیادہ لٹکانا اِسبال ہے۔ تینوں چیزوں میں اِسبال کی تفصیل درج ذیل ہے چنانچہ
قمیص وغیرہ میں اِسبال کی صورت
مُفَسِّرِ شَہِیر، حَکِیمُ الاُ مَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : صرف نیچا تہبند ہی مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ عمامہ کا شملہ، کُرتے کا دامن بھی اگر ضرورت سے زیادہ نیچا ہو تو وہ بھی ممنوع ہے اور اس پر بھی یہی وعید ہے مزید فرماتے ہیں کہ عمامہ کا شملہ نصف پیٹھ تک چاہئے بعض نِشَست گاہ تک رکھتے ہیں یہ ممنوع ہے اور قمیض کا دامن بعضے عرب ٹخنوں کے نیچے رکھتے ہیں (یہ بھی) ممنوع ہے ۔ ( مراٰۃ المناجیح ، ۶/۱۰۲)
شلوار و تہبند میں اسبال کی صورت
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں۔ (بہار ِشریعت ، ۱/۶۳۲)
سیّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ