خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بعض (علماء) بائیں جانب (شملہ) لٹکانا مناسب جانتے ہیں ، مگر اس کی سند قوی و معتبر نہیں ہے اگرچہ بعض علماء نے اس باب میں اس کی دلیلیں لکھی ہیں۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ۳۹)
شارحِ بخاری حضرت امام احمد بن محمد قَسطلانی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں : حافظ زین الدّین عراقی (عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ البَاقِی) فرماتے ہیں : بائیں جانب شملہ لٹکانا مَشروع (یعنی شریعت میں جائز) ہے۔
(ارشاد الساری ، کتاب اللباس ، باب العمائم ، ۱۲/۶۱۲، تحت الحدیث:۵۸۰۶)
شملہ اور مسئلۂ اِسبال
سیِّدُ المُبَلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : اِسبال تہبند، قمیص اور عمامہ میں بھی ہوتا ہے۔ جو تکبُّر کی وجہ سے ان میں سے کوئی چیز گھسیٹے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِقیامت اس پر نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔
(ابو داؤد، کتاب اللباس، باب فی قدر موضع الازار، ۴/۸۳، حدیث:۴۰۹۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث مبارک میں تین چیزوں (تہبند، قمیص اور عمامہ) میں اِسبال کا ذکر ہے۔ اِسبال کا لغوی معنی ہے: ’’چھوڑنا اور