Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
160 - 479
 مندرجہ ذیل حدیثِ پاک سے استدلال کیا ہے چنانچہ حضرت سیّدنا عبداللہ بن بُسر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّمَ نے جب حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو خیبر روانہ فرمایا تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ باندھا اور اس کا شملہ پیچھے یا فرمایا کہ بائیں کندھے پر لٹکایا۔ (مجمع الزوائد،  کتاب الجہاد، باب ما جاء فی القسی والرماح والسیوف ، ۵/۴۸۸، حدیث:۹۳۸۱) 
	حضرت علامہ محمد بن یوسف شامی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : بائیں جانب شملہ لٹکانا جیسا کہ کثیر ساداتِ صوفیاء کرام کا طریقہ ہے اس کی دلیل طبرانی وغیرہ میں موجود حضرت سیّدنا عبداللہ بن بُسر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت ہے ۔ شارحِ بخاری حضرت علامہ حافظ ابنِ حجر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے صوفیاء کرام کے بائیں جانب شملہ لٹکانے کی دلیل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: کہ صوفیاء کرام پر اس بات کی دلیل بیان کرنا لازم نہیں کیونکہ یہ (بائیں جانب شملہ لٹکانا ) مباح امور میں سے ہے اور اگر کوئی مباح امور میں سے کسی کو اپنا لے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا بالخصوص جبکہ وہ (اس مباح کام) کو اپنا شعار بنا لے۔  (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۹، الدعامہ فی احکام سنۃ العمامۃ ، ص۵۶)