Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
159 - 479
میں ہے اور حضرت سیّدنا ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث’’ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ وَسَلَّمَ جب عمامہ شریف باندھتے تھے تو اس کا شملہ آگے اور پیچھے چھوڑا کرتے تھے ‘‘اس کے مُعارِض (مخالف) نہیں کیونکہ دونوں کندھوں کے درمیان شملہ چھوڑنے والی حدیث زیادہ صحیح اور زیادہ قوی ہے کہ یہ مسلم کی روایت ہے۔ تو خاص طور پر اسی حدیث کو لیا جائے گا اور حدیث ثوبان کو اس پر محمول کریں گے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّمَ نے ایسا کبھی کبھار کیا ہے اور یہ بیانِ جواز کے لیے ہے ۔ (الدعامہ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص۵۴) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بائیں طرف شملہ لٹکانا اکثر ساداتِ صوفیا کا طریقہ ہے، جیسا کہ حضرت علامہ ابراہیم بیجوری عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : صوفیائے کرام بائیں جانب شملہ لٹکانے کو مستحسن قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ دل کی جانب ہے اور (بائیں جانب شملہ رکھنا) اس بات کی یاد دلاتا رہتا ہے کہ دل کومَا سِوَی اللہ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد کے سوا ہر چیز ) سے خالی رکھنا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ علی الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی صفۃ عمامۃ رسول اللہ، ص ۱۰۱ واللفظ لہ، سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/۲۷۹) 
	علماء و مُحدِّثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے بائیں جانب شملہ لٹکانے پر